Jupiter: A gas giant

مشتری نظام شمسی کا پانچواں سیارہ ہے اور باقی تمام سیاروں سے بڑا ہے۔ یہ ہمیشہ سے مشہور خلائی ادارے ناسا کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ یہ سیارہ گیس کے بڑے بڑے بھنوروں اور پٹیوں سے بنا ہے۔ یہ گیس کے بادل زیادہ تر امونیا اور پانی سے بنے ہیں۔ سیارے پر موجود آنکھ کی شکل میں لال رنگ کا نشان ہے جسے ریڈ سپاٹ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نشان بہت تیز چلنے والے طوفان کا نتیجہ ہے اور یہ طوفان سائز میں زمین سے بھی بڑا ہے۔ مشتری کا نام قدیم رومی دیوتا کے نام پر رکھا گیا ہے۔ مشتری کے تقریباً پچاس چاند ہیں اور ان کے علاوہ اور چھوٹے چاند بھی ہیں جن کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی۔

مشتری کا سائز

مشتری کا قطر زمین سے گیارہ گنا بڑا ہے اور سورج سے فاصلہ تقریباً 77کروڑ 80 لاکھ کلومیٹر ہے۔ روشنی کو سورج سے مشتری تک پہنچنے میں 43 منٹ لگتے ہیں۔ مشتری 10 گھنٹوں گھومتا ہے جس وجہ سے اس کا دن زمین سے چھوٹا ہے۔ لیکن سورج کے گرد چکر لگانے میں مشتری کو 12 سال لگتے ہیں۔ مشتری اپنے محور سے 3 ڈگری ہٹ کے گھومتا ہے اور اس میں زمین کی طرح موسم نہیں بدلتے۔

سیارے کی ساخت

مشتری زیادہ تر ہیلیم اور ہایئڈروجن سے بنا ہے۔ سورج بھی انہیں مادوں سے بنا ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سیارہ باقی سیاروں کی نسبت دیر سے وجود میں آیا ہو گا۔ اس کی کشش ثقل نے اردگرد کے باقی سب مادوں کو اپنے اندر کھینچ لیا ہو گا۔ بہت زیادہ دباو ہونے کی وجہ سے مشتری پر گیس مائع حالت میں ہے اور اس پر ہائیڈروجن کے سمندر ہیں۔ انہیں ہائیڈروجن کے سمندروں کی وجہ سے مشتری پر اتنے شدید طوفان چلتے ہیں۔ یہ بھی سوچا جاتا ہے کہ مشتری پر کوئی ٹھوس سطح نہیں ہو گی بلکہ یہ صرف گیس کا گولا ہے۔

Jupiter's cloudsمشتری کے بادل بادلوں سے بنے پیٹرن آنکھوں کو بہت بھاتے ہیں۔ یہ بادل زیادہ تر سلفر اور فاسفورس سے بنے ہیں۔ ان میں ہوا کی رفتار 335 میل فی گھنٹے تک پہنچ جاتی ہے۔ مشتری کی سطح زندگی کے لیئے موثر نہیں ہے۔ شدید دباو، ہوا، ماحول اور درجہ حرارت اس سیارے پر زندگی کی موجودگی کو ناممکن بنا دیتے ہیں۔ لیکن اس کے یوروپا جیسے چاند پر زندگی کے لیئے مناسب حالات پائے جا سکتے ہیں۔

 

Navigation:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے