سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ہماری اس کہکشاں (ملکی وے) کے بالکل درمیان میں ایک بلیک ہول ہے جسے سیجیٹیرس اے سٹار(Sagittarius A*) کا نام دیا گیا ہے۔ آج تک کسی نے بھی اصل میں بلیک ہول کو نہیں دیکھا۔ بلیک ہول کا اندازہ اس سے لگایا جاتا ہے جب کچھ مادہ(گیس) ایک غیب چیز کے گرد گھوم رہی ہوتی ہے ہر اس میں جذب بھی ہو رہی ہوتی ہے۔ اس سے x-Rays خارج ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر اندازہ لگایا جاتاہے کہ اس جگہ پر ایک بلیک ہول ہو گا۔
سائنسدانوں نےبلیک ہول کی اصل تصویر لینے کے لیے ایک پراجیکٹ شروع کیا ہے جسے ایونٹ ہرایزن ٹیلی سکوپ(EHT)کا نام دیا گیا ہے۔ اس پراجکٹ میں بہت سی دوربینیں کہکشاں کے درمیان کی طرف لگائی گئی ہیں۔ اس تجربے کا رزلٹ اس سال کے آخر میں یا پھر 2018 کے شروع میں متوقع ہے۔

بلیک ہول کے بارے میں یہ تھیوری ہے کہ اس میں سے روشنی بھی نہیں نکل سکتی۔ اس پراجکٹ سے سائنسدان اونٹ ہرازن کی تصویر لینے کا سوچ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا پوانٹ ہے جہاں سے آگے روشنی اور کسی بھی قسم کی شعاع بلیک ہول سے نہیں نکل سکتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے