کہکشایں عام طور پر مستقل حرکات میں پائی جاتی ہیں۔ ان کی یہ حرکت گھومتی ہوئی ڈسک کی شکل میں ہوتی ہے۔ ان کے مشاہدے سے یہ دریافت ہوا ہے کہ ڈسک شکل والی کہکشاوں میں سے ستاروں کی پیدائش سپائرل کہکشاوں کی نسبت کم ہوتی ہے۔

ڈسک کہکشاوں کا ارتقاء

ڈسک کہکشایں سپائرل کہکشاوں سے ہی وجود میں آتی ہیں۔ یہ بیضوی کہکشایں نئے ستارے نہیں بناتی جیساکہ سپائرل کہکشاوں میں نیلے ستارے دیکھے جاتے ہیں۔ یہ نیلے ستارے نئے وجود میں آئے ہوتے ہیں۔ ساکت ڈسک کہکشایں اپنی ساخت اور حرکت بھی بدل لیتی ہیں جو کہ کافی آہستہ ہوتی ہے۔

ڈسک کہکشاوں کے متعلق سائنسی دریافتیں

A dead disc galaxy
ساکت ڈسک کہکشاوں کا سائز بیضوی کہکشاوں سے چھوٹا ہوتا ہے۔ سائنسدان کہکشاوں کے وسط میں دیکھنے کے لیئے کشش ثقلی عدسے والی تکنیک کا سہارا لیتے ہیں۔ یورپ کی شمالی رصد گاہ نے ایک ڈسک کہکشاں کا انکشاف کیا ہے جو کہ ملکی وے سے دوگنی رفتار سے گھوم رہی ہے۔

کہکشاں کے ساکت ہونے کی قیاس آرائیاں

کسی کہکشاں کے ستارے بنانا چھوڑنے کہ وجہ ابھی تک نامعلوم ہے۔ یہ اندازے لگائے جاتے ہیں کہ شائد کہکشاں کے وسط والے بلیک ہول کی وجہ سے اس میں مادے کی مقدار کم ہو جاتی ہو گی اور گیس زیادہ دباو کی وجہ سے ٹھوس ستارے نہیں بنا سکتی ہو گی۔
ٹوفٹ نامی ایک سائنسدان کا خیال ہے کہ شائد چھوٹی کہکشائں آپس میں ضم ہو کے بیضوی کہکشاں بناتی ہیں۔ جس سے ستاروں کا مدار بے ترتیب ہو جاتا ہو گا اور یہ کہکشاں کی شکل ڈسک جیسی ہو جاتی ہو گی۔
سائنسدان اور ماہر فلکیات کائنات کے اور عجوبوں کو بھی بے پردہ کر رہے ہیں۔

Navigation:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے