Black hole-world's greatest mysteries

کائنات کی پراسرار ترین چیز: بلیک ہول

بلیک ہول، جیساکہ نام سے ہی پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت گہری کالی چیز ہے۔ خلا میں بلیک ہول ایک ایسی چیز ہے جس کی کشش ثقل اتنی طاقتور ہے کے اس میں سے روشنی بھی نہیں نکل سکتی۔ بلیک ہول کی کشش ثقل اس لیئے اتنی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ اس میں بہت زیادہ انرجی ایک چھوٹی سی جگہ میں اکٹھی ہو جاتی ہے۔ بہت زیادہ کشش ثقل ہونے کی وجہ سے یہ اپنے اردگرد کے ستارے بھی نگل جاتا ہے۔ بلیک ہول زیادہ تر تباہ شدہ ستاروں سے بنتا ہے۔
"کائنات کی پراسرار ترین چیز: بلیک ہول " پڑھنا جاری رکھیں

بلیک ہول کی پہلی تصویر

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ہماری اس کہکشاں (ملکی وے) کے بالکل درمیان میں ایک بلیک ہول ہے جسے سیجیٹیرس اے سٹار(Sagittarius A*) کا نام دیا گیا ہے۔ آج تک کسی نے بھی اصل میں بلیک ہول کو نہیں دیکھا۔ بلیک ہول کا اندازہ اس سے لگایا جاتا ہے جب کچھ مادہ(گیس) ایک غیب چیز کے گرد گھوم رہی ہوتی ہے ہر اس میں جذب بھی ہو رہی ہوتی ہے۔ اس سے x-Rays خارج ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر اندازہ لگایا جاتاہے کہ اس جگہ پر ایک بلیک ہول ہو گا۔
سائنسدانوں نےبلیک ہول کی اصل تصویر لینے کے لیے ایک پراجیکٹ شروع کیا ہے جسے ایونٹ ہرایزن ٹیلی سکوپ(EHT)کا نام دیا گیا ہے۔ اس پراجکٹ میں بہت سی دوربینیں کہکشاں کے درمیان کی طرف لگائی گئی ہیں۔ اس تجربے کا رزلٹ اس سال کے آخر میں یا پھر 2018 کے شروع میں متوقع ہے۔

بلیک ہول کے بارے میں یہ تھیوری ہے کہ اس میں سے روشنی بھی نہیں نکل سکتی۔ اس پراجکٹ سے سائنسدان اونٹ ہرازن کی تصویر لینے کا سوچ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا پوانٹ ہے جہاں سے آگے روشنی اور کسی بھی قسم کی شعاع بلیک ہول سے نہیں نکل سکتی۔