Big Bang

انسان ہمیشہ سے اپنے اور اپنے اردگرد ہر چیز کے وجود کے بارے میں جاننا چاہتا ہے۔ میڈیکل سائنس نے انسان کے بارہ میں تو بہت کچھ بتا دیا ہے پرہر چیز کی بنیاد کہاں سے ہوئی یہ سوال ابھی موجود ہے کہ یہ آسمان، ستارے، کہکشائیں اور پوری کائنات کیسے بنی۔ اسے سوالات کے جواب میں سائنسدان مختلف نظریات دیتے رہتے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور نظریہ بگ بینگ ہے۔

کائنات بننے سے پہلے کیا تھا؟ اوراس کائنات کے باہر کیا ہے؟ان سوالات کا ٹھیک جواب کسی کو بھی نہیں پتا۔ یہ سوچا جاتا ہے کہ اس کائنات کے پیدا ہونے سے پہلے یہ سارا مادہ ایک چھوٹے سے گولے کی شکل میں موجود تھا۔ اب اس کائنات کے اندر سے یہ اندازا لگانا مشکل ہے کہ اس کے علاوہ اور بھی کائنات ہیں یا ہماری یہ کائنات کسی پرانی کائنات میں سے ہی تو نہیں نکلی؟ کائنات کے وجود سے پہلے کے بارے میں سوالات کے جواب ابھی راز ہی ہیں۔

بگ بینگ تھیوری

Bing Bang - Cosmosہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ سارا کچھ اور زندگی کیسے وجود میں آئی۔ بہت سے سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ بگ بینگ انرجی کی تباہ کاری نہیںہے بلکہ یہ چھوٹے مادے کا اس بہت بڑی کائنات میں پھیلنا ہے۔

شروع میں روشنی نہیں تھی اس لیے یہ سوچا جاتا ہے کہ کائنات زیادہ سے زیادہ پھیل رہی ہے۔ اس شروعاتی کائنات کی انرجی بہت گرم تھی جو کہ آہستہ آہستہ ٹھندی ہونی شروع ہوئی اور یہ دو چیزوں میں تقسیم ہوئی:مادہ اور ضد مادہ (antimatter)۔ یہ دونو انرجی سے بنے تھے اور ایک دوسرے سے مختلف اجزا تھے اس لیے اکٹھے نہیں رہ سکتے تھے۔ مادہ اور ضد مادہ (antimatter) آپس میں ٹکرا کر دونوں ختم ہو جاتے ہیں۔جرمنی کے ایک سائنسدان جارج گیمو جس نےکائنات کو ایٹم بم موازنہ کیا تھا نے یہ کائنات کے شروع میں گرم ہونے کی تجویز دی تھی۔اور اس کو بعد میں بگ بینگ کا نام دیا گیا۔

مادہ اور ضد مادہ (antimatter) کے ٹکرانے کے بعد آخر میں صرف مادہ بچ گیا۔جس سے پھرہم اور یہ کہکشائیں اور ستاروں کے نظام بنے۔ یہ سارا کچھ کائنات میں موجود بادلوں سے بنا ہے جن میں بہت زیادہ انرجی ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کے کہکشاوں کے بننے کے بعد بھی ان میں ہائڈروجن اور ہیلیم کے بادل موجود ہیں۔ ان بادلوں سے ہی ستارے پیدا ہوتے ہیں۔ ستاروں کے ارد گرد جو بادل اورذرات بچ جاتے ہیں ان سے سیارے بنتے ہیں جو قریبی ستارے کے گرد مدار میں چکر لگاتے ہیں۔ جیسا کہ ہماری زمین اپنے ستارے سورج کے گرد چکر لگا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے