انسان ہمیشہ سے کائنات کی پوشیدہ چیزوں کے بارے میں تجسس میں رہا ہے۔ خلا ہمیشہ سے اس کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ ہمارے سورج سے نزدیک ترین ستارے کا نام ایلفا سینٹوری (Alpha Centuari) ہے۔

ایلفا سینٹوری کا زمین سے فاصلہ

ایلفا سینٹوری ہمارے سورج سے تقریباً چار نوری سال دور ہے۔ یہ فاصلا تقریباً 2500 کھرب (25 trillion) میل بنتا ہے۔ اگر ہم روشنی کی بیس فیصد رفتار سے بھی چلیں تو ہمیں وہاں تک پہنچنے میں 20 سال لگ جائیں گے۔ 3۔4 نوری سال کا فاصلہ طے کرنے کے لیئے سارے نظام شمسی کا ایندھن بھی لگ جائے گا۔

ایلفا سینٹوری سسٹم

اگر ہم زمین سے دیکھیں تو یہ ایک ستارے کی طرح نظر آتا ہے۔ لیکن اگر اسے طاقتور دوربین سے غور سے دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ دو ستاروں کا نظام ہے۔ ایک کو ایلفا سینٹوری اے (Alpha Centauri A) کا نام دیا گیا ہے اور دوسرے کہ ایلفا سینٹوری بی (Alpha Centauri B)۔ دونوں تقریباً ایک جتنے ہیں اور ایک دوسرے کے گرد گھوم رہے ہیں۔ ان کا مدار اتنا بڑا ہے جتنا سورج کے گرد یورینس کا ہے۔

سسٹم کا تیسرا ستارہ

ایلفا سینٹوری سسٹم میں ایک اور ستارہ بھی ہے جو کے زمین سے تھوڑا قریب ہے۔ اسے پروکسما سینٹوری (Proxima Centauri) کا نام دیا گیا ہے۔ اس ستارے کی چمک تھوڑی مدھم ہے۔ یہ تقریباً مشتری سے ڈیڑھ گنا بڑا ہے۔

ایلفا سینٹوری بی کے مدار میں سیارہ

ماہرفلکیات نے اس نظام میں ایک نامعلوم سیارہ تلاش کیا ہے۔ یہ خیال ہے کہ یہ سیارہ ایلفا سینٹوری بی کے گرد گھوم رہا ہے۔ اس سیارے کا وزن تقریباً زمین کے برابر ہے۔ سائنسدانوں کا نظریہ ہے کہ اس سیارے کی سطح پگھلی ہوئی چٹانوں سے بھری ہو گی۔ ستارے کے گرد ایک خاص فاصلے پر مدار کو سائنسدانوں نے "ہیبٹاٹ زون (Habitat Zone) ” کا نام دیا ہے جہاں زندگی کے آثار ہو سکتے ہیں۔ اس سیارے کی کھوج ایک نئی دنیا کا راستہ ہو سکتی ہے جہاں اور مخلوقات آباد ہو سکتی ہیں۔

اس نظام سے ماہر فلکیات نے یہ سیکھا ہے کہ دوسرے ستاروں کے گرد بھی سیارے ہو سکتے ہیں۔ اگر اس سسٹم پر مزید غور کیا جائے تو اس میں مزید سیارے بھی دریافت ہو سکتے ہیں۔ ہمارے نظام شمسی جیسے اور نظام بھی دریافت ہو سکتے ہیں جو کہ نئی دنیاوں تک انسان کا راستہ کھول سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے